Man kills traffic warden, passerby following a parking row in Rawalpindi

0

Man kills traffic warden, passerby following a parking row in Rawalpindi

h
کل راولپنڈی میں کمیٹی چوک کے مقام پر افطاری سے تھوڑی دیر قبل ایک افسوس ناک واقع پیش آیا جس میں ایک درندہ صفت انسان نہیں ایک ٹریفک وارڈن شاہد سرور کو گولی مار کے محض اس بات پر شہید کر دیا کہ شاہد نے اسے نو پارکنگ زون میں کار کھڑی کرنے سے منع کیا تھا

ابھی قاتل کے بارے زیادہ تفصیل معلوم نہیں ہوئی، کوئی کہتا ہے وہ اسلام آباد کا رہائشی ہے اور پراپرٹی کا کام کرتا ہے ، پہلے ہی کسی اور مقدمے میں ضمانت پر رہا ہوا ہے

جبکہ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں قاتل کسی ڈی ایس پی کا بگڑا ہوا بیٹا ہے، حقیقت کیا ہے وہ ایک دو دونوں میں سامنے آ جائے گی

لیکن معاملہ اس بے حسی اور درندگی کا ہے جس میں قانون کے رکھوالے کو قانون پر عمل داری کروانے پر قتل کردیا گیا

پاکستان میں آئے دن ایسے بھیڑیئے بے گناہ اور غریب مسکینوں کا خون بہا کے نہ صرف پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر عدالتوں سے آزاد ہو جاتے ہیں بلکہ باقی لوگوں کے دلوں سے بھی قانون کا خوف ختم کر کے ایسے مزید مظالم کی راہ ہموار کرتے ہیں

میں چیف جسٹس صاحب سے اپیل کرتا ہوں جناب آپ اپنے عدالتی نظام میں سقم تلاش کریں ، کیا وجہ ہے شاہ رخ جتوئی قتل کر کے آج بھی زندہ ہے ، فہد ملک کے قاتل بھی دندناتے پھر رہے ہیں لیکن انہیں پھانسی نہیں ہو رہی ، اب شاہد سرور کا قتل ہو گیا

کیا آپ کو تب ہوش آئے گی جب آپ کا اپنا بیٹا یا بیٹی یوں ہی قتل ہوں گے ؟

کیوں ہمیں ظالموں کو سزا دینے کے لئے کئی کئی سال انتظار کرنا پڑتا ہے تا کہ وہ اپنی جان بخشی کے لئے کوئی مناسب انتظام کر سکیں ؟ جب ایک بندے پر ثابت ہو گیا کہ اس نے جرم کیا ہے تو جو سزا قانون میں ہے اس پر فوری عمل درآمد کیوں نہیں ہوتا ؟

ماضی کے واقعات کو دیکھ کے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں شاہد سرور شیہد کا قاتل بھی شاہد سرور کے خون کی قیمت پانچ چھ لاکھ لگا کے آزاد ہو جائے گا اور عدالتیں اسے باعزت بری بھی کر دیں گی

ہمیں بحثیت قوم اس معاملے پر آواز اٹھانی ہو گی ورنہ کل کو شاہد سرور کی جگہ آپ کا اپنا بھائی ، بیٹا یا باپ بھی ایسے ہی قتل ہو سکتا ہے

ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کل شہید کئیے جانے والے ٹریفک وارڈن شاہد سرور کا قاتل اسلام آباد کا رہائشی ہے ۔۔۔ اس کا باپ کل اس سے ملنے تھانے آیا تھا پر پولیس نے ملنے نہیں دیا ۔۔ آج اس کے باپ نے شاہد سرور کے والد صاحب کو فون کیا تھا کہ بتائیں کتنے پیسے لیں گے معاملہ ختم کرنے کے، انہوں نے فوری طور پر اس بات کی اطلاع ایس پی ٹریفک پولیس کو کر دی جس پر ایس پی صاحب نے قاتل کے والد یا خاندان سے کسی قسم کی ڈیل کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا ہم آپ کے بیٹے کو قانون سے انصاف دلائیں گے

ابھی افطار کے بعد ایس پی اپنی ٹیم کے ہمراہ شاہد کے گھر بھی جائیں گے

زمرد خان جو کہ اپنا گھر کے نام سے یتیم خانہ چلاتے ہیں نے شاہد سرور کے والد کو چار لاکھ روپے اپنی جیب سے ادا کئیے ہیں اور ان کے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری لینے کا وعدہ کیا ہے۔

شاہد سرور شہید کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے

SHARE