”عمران اور جمائما کو ایک دوسرے سے بے وفائی کا شکوہ نہ تھا بلکہ دراصل جمائما کا واحد اعتراض یہ تھا کہ عمران

0

”عمران اور جمائما کو ایک دوسرے سے بے وفائی کا شکوہ نہ تھا بلکہ دراصل جمائما کا واحد اعتراض یہ تھا کہ عمران

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی ہارون الرشید نے اپنے کالم میں انکشاف کیاہے کہ عمران اور جمائما کو ایک دوسرے سے بے وفائی کا شکوہ نہ تھا ، جمائما کا واحد اعتراض یہ تھا کہ عمران اسے وقت نہ دے سکتا ۔

تفصیلات کے مطابق ہارون الرشید نے اپنے کالم میں کہا کہ جمائما کیا اس لیے عمران خان کو چھوڑ گئیں کہ ” صاحب “ کے طرز زندگی پر انہیں کوئی اعتراض تھا ؟ پہلی بات تو یہ کہ جمائما نے عمران خان کو نہیں چھوڑا بلکہ باہم مشورے سے انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ، اپنے میاں کو جمائما صاحب کہا کرتی تھیں ، اس کا انکشاف اس شام کو ہوا جب ای الیون اسلام آباد والے گھر میں کپتان سے ملنے گیا ، صبح سویرے اس کے ساتھ میری بات ہوئی اور ملاقات کا وقت طے ہوا تھا ۔

ضرور پڑھیں:عمران خان کو کتنے حلقوں میں شکست ہوسکتی ہے ؟ تازہ ترین سروے میں ایسا انکشاف کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

2002 تھا اور گزشتہ شب الیکشن جیتنے پر خان کو مبارک با ددی تو انہوں نے کہا تھا کہ ابھی نہیں ، نتیجہ نہیں آیا ، ابھی کچھ بھی ہو سکتاہے ، ان کی آواز میں اندیشہ تھا کہ یہ ناراض ہو جانے والا فوجی حکمران کوئی کرشمہ کر سکتاہے ، حیرت سے میں نے کہا کہ اتنی واضح اکثریت کے بعد جب اتنے تھوڑے سے پولنگ سٹیشن باقی ہیں آپ ہار کیسے سکتے ہیں ،اس نے کہا پھر بھی ۔سحر بات ہوئی تو اس نے کہا کہ شام کو آنا میں آرام کرناچاہتاہوں اور کچھ وقت بچوں کے ساتھ بتانا چاہتاہوں ، سورج غروب ہونے والا تھا ، جب دستک دی تو سامنے ٹیرس پر جمائما کھڑی تھیں ، ان کی آواز صاف سنائی دی ” صاحب کا دوست آیاہے “ چائے کا بندوبست کرو ،انہوں نے اردو میں کہا ، وہی انگریزی لحجہ مگر ایک ایک لفظ ہموار۔

source

SHARE